مجموعی طور پر 20 سال سے کم تجربہ رکھنے والے صحافی پلاٹ کے حقدار نہیںہیں
اسلام آباد(نیوزرپورٹر)وزارت اطلاعات نے جڑواں شہروں کے عامل صحافیوں کو عرصہ دراز سے پلاٹوں کی زیرالتوا الاٹمنٹ کا مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے پیر سے سکروٹنی کمیٹی کے اجلاس روزانہ کی بنیاد پر منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، وزارت اطلاعات نے سی ڈی اے سے بھی ضروری ریکارڈ طلب کرلیا ہے تاکہ ماضی میں پلاٹ یا فلیٹ لینے والے صحافی دوبارہ پلاٹ حاصل نہ کرسکیں ۔
وفاقی سیکرٹری اطلاعات اشفاق احمد خلیل اور پرنسپل انفارمیشن آفیسر مبشر حسن سے صحافی دوستوں کے ہمراہ وزارت اطلاعات میں ایک تفصیلی نشست ہوئی ۔۔ وفاقی سیکرٹری اطلاعات کو جڑواں شہروں کے سینئر صحافیوں کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ 10 سال سے زائدعرصہ سے زیر التوا ہونے اور “ کمیٹی کمیٹی کے کھیل “ میں عامل صحافیوں کے حق سے محروم ہونے پر تفصیلی بریفنگ دی اور گزشتہ روز کمیٹی کا اجلاس ملتوی کیے جانے پر صحافیوں کے تحفظات سے انہیں آگاہ کیا ، پی آئی او مبشر حسن نے اشفاق احمد خلیل کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں تاخیر کی وجوہات اور رکاوٹوں سے تفصیلا آگاہ کیا ۔ وفاقی سیکرٹری اطلاعات نے ہمیں یقین دلایا کہ وزارت اطلاعات نہ تو پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں رکاوٹ ہے اور نہ رکاوٹ بنے گی ۔ وہ صحافتی تجربے اور میرٹ کی بنیاد پر صحافیوں کو ان کا حق ملنے پر یقین رکھتے ہیں ۔
وفاقی سیکرٹری اطلاعات نے وزارت کے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ عامل صحافیوں کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے معاملہ پر آئندہ ہفتے سے کمیٹی کا اجلاس روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے ۔
ملاقات میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ جن صحافیوں نے اسلام آباد میں پہلے ایک پلاٹ اور فلیٹ لے رکھا ہے ( یا فلیٹ سرنڈر کرنے کے بعد پلاٹ الاٹمنٹ کے لیے دوبارہ اپلائی نہیں کررکھا ) وہ پلاٹ الاٹمنٹ کا مستحق نہیں ۔۔ وہ صحافی جو اسلام آباد میں 15 سالہ صحافت سمیت مجموعی طور پر 20 سال کا صحافتی تجربہ نہیں رکھتا وہ بھی پلاٹ الاٹمنٹ کا مستحق نہیں ہوگا ۔ وہ صحافی جو گزشتہ کئی سال سے صحافت چھوڑ کر این جی اوز یا کوئی اور ادارہ جوائن جاری کر چکا وہ بھی پلاٹ الاٹمنٹ کے معیار پر پورا نہیں اترتا ۔۔ وفاقی سیکرٹری اطلاعات اور پی آئی او کا مسئلہ کے حل کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کے اعلان پر شکریہ ادا کیا ۔پی آر اے کے سابق صدر بہزاد سلیمی نے وفاقی سیکرٹری اطلاعا ت کو تجویز پیش کی کہ صحافیوں سے متعلق کمیٹیوں میں پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کو نظر انداز کرنے کی پالیسی ترک کی جائے ۔۔ آئندہ ڈمی صحافتی تنظیموں کو کمیٹیوں کا حصہ بنانے کی بجائے پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کو نمائندگی دی جائے کیونکہ پی آراے ملک بھر کے صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنے والا انتہائی اہم فورم اور کارکن صحافیوں کا مورچہ ہے



