مذاکرات کے لئے امریکی وفود کی اسلام آباد آمد کا سلسلہ اتوار کی شام سے شروع
امریکی ایران مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں ۲ امریکی طیارے نور خان ائر بیس اتر گئے
جڑواں شہروں میں سیکورٹی سخت،دکانیں ، بازار اور کاروبار بند ،شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت
اسلام آباد(رپورٹ :محمد رضوان ملک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لئے امریکی وفد اکل پاکستان جائے گا۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ نے دعوی کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لئے اگلے دو روز بہت اہم ہیں، جب کہ اسلام آباد میں غیرمعمولی سیکیورٹی انتظامات اور سرگرمیاں اس امکان کو تقویت دے رہی ہیں۔دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی نمائندے مذاکرات کے لیے کل اسلام آباد پہنچیں گے تاہم ایران کی جانب سے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کے حوالے سے تاحال کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا ہے۔
الجزیرہ نے اپنی ایک رپورٹ میں پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ان کے اندازے کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات آئندہ چند روز میں متوقع ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نتیجہ مختلف زمینی حقائق اور حالیہ سرگرمیوں کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ہے۔رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکی فضائیہ کے دو کارگو طیارے راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر لینڈ کر چکے ہیں جبکہ ایئرپورٹ سے ریڈ زون تک جانے والی سڑکوں کو بھی عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے ہفتے کی شب قوم سے خطاب میں کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی میں پھر اضافے کا امکان ہے تاہم مذاکرات کا عمل جاری ہے اور ایران ہر ضروری اقدام کے لیے تیار ہے۔باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ پاکستان سمیت مختلف ممالک کے ذریعے ایران تک تجاویز پہنچائی گئی ہیں جن کا سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پائیدار امن کا خواہاں ہے لیکن امریکا پر عدم اعتماد برقرار ہے۔ انہوں نے اس خواہش ظاہر کی کہ ایران ایسا مستقل حل چاہتا ہے جو جنگ بندی کے بعد دوبارہ تصادم کے خطرات کو ختم کر سکے۔
دوسری طرف حسب معمول ٹرمپ کی طرف سے دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر آبنائے ہرمز میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ میرے نمائندے مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہو رہے ہیں، اگر ایران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو ہم وہ اقدامات کریں گے جو گزشتہ 47 برسوں میں کیے جانے چاہیے تھے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران نے گزشتہ روز آبنائے ہرمز میں فائرنگ کی، جسے انہوں نے جنگ بندی معاہدے کی مکمل خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کے مطابق فائرنگ کا نشانہ ایک فرانسیسی جہاز اور برطانیہ کے ایک مال بردار جہاز کو بنایا گیا۔صدر ٹرمپ نے اعلان کیاکہ ان کے نمائندے مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہو رہے ہیں اور وہ کل شام تک وہاں پہنچ جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ ایران نے حال ہی میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا، حالانکہ امریکی ناکہ بندی کے باعث یہ راستہ پہلے ہی بند ہے۔
ان کے بقول اس صورتحال میں ایران خود ہی روزانہ قریبا 50 کروڑ ڈالر کا نقصان اٹھا رہا ہے جبکہ امریکا کو کوئی نقصان نہیں ہو رہا۔انہوں نے مزید کہاکہ اس دوران کئی جہاز امریکا کی ریاستوں ٹیکساس، لوئیزیانا اور الاسکا کا رخ کر رہے ہیں تاکہ وہاں سامان لوڈ کیا جا سکے۔امریکی صدر نے کہاکہ امریکہ ایران کو ایک منصفانہ اور معقول معاہدہ پیش کر رہا ہے اور امید ظاہر کی کہ تہران اسے قبول کرے گا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیاکہ اگر ایران نے پیشکش مسترد کی تو امریکا ایران کے تمام پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنائے گا۔انہوں نے سخت لہجے میں کہاکہ اب مزید نرمی نہیں برتی جائے گی۔ اگر ایران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو ہم وہ اقدامات کریں گے جو گزشتہ 47 برسوں میں کیے جانے چاہیے تھے۔



