بلیک ہول ایک ایسا معمہ ہے جہاں سے آج تک کوئی چیز واپس نہیں آئی حتی کہ کوئی بھی مادہ یا روشنی واپس نہیں آسکتی
کینیڈین تحقیق پر سائنسدانوں کا ملا جلا ردعمل ، بعض نے شک کا اظہار کیا بعض نے مزید آزادانہ تحقیق اور تصدیق کی ضرورت پر زور دیا
اسلام آباد:کائنات کی تاریخ میں پہلی بار سائنسدانوں نے بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن یعنی اس سرحد کے ‘نشانات’ دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جہاں سے روشنی سمیت کوئی بھی چیز واپس نہیں آسکتی۔بین الاقوامی تحقیقی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ اہم پیش رفت 2 بلیک ہولز کے انتہائی شدید تصادم سے پیدا ہونے والی ثقلی لہروں کے تجزیے سے ممکن ہوئی۔ایونٹ ہورائزن کو بلیک ہول کا ‘پوائنٹ آف نو ریٹرن’ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس حد کو عبور کرنے کے بعد کوئی بھی مادہ یا روشنی واپس نہیں آسکتی، جس کی وجہ سے اس خطے کا براہِ راست مطالعہ ہمیشہ سے سائنسدانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔
تحقیق کے مطابق جب 2 بلیک ہول آپس میں ضم ہو کر ایک بلیک ہول بن جاتے ہیں تو اس عمل کے دوران کائنات میں طاقتور ثقلی لہریں پیدا ہوتی ہیں، جنہیں گزشتہ ایک دہائی سے سائنسدان ریکارڈ کر رہے ہیں۔سائنسدانوں نے اس تصادم کے آخری مرحلے میں پیدا ہونے والی ‘ڈائریکٹ ویوز’ کو الگ کر کے ایونٹ ہورائزن کے انتہائی قریب کے علاقے سے متعلق معلومات حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
کینیڈا کے پیری میٹر انسٹی ٹیوٹ فار تھیوریٹیکل فزکس سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر سِژینگ ما کا کہنا ہے کہ بلیک ہول کا ایونٹ ہورائزن اب تک سائنس فکشن کا حصہ محسوس ہوتا تھا، لیکن اب ثقلی لہروں کی مدد سے اس کے آس پاس کے علاقے کا مطالعہ ممکن ہو رہا ہے۔سائنسدانوں نے بلیک ہول کی گردش کے دوران خلا اور وقت کے مڑنے کے عمل، جسے ‘فریم ڈریگنگ’ کہا جاتا ہے، کے شواہد بھی حاصل کیے۔ تحقیق کے نتائج آئن اسٹائن کے عمومی نظریۂ اضافیت کی مزید تائید کرتے ہیں۔
تحقیق پر سائنسی حلقوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، بعض ماہرین نے نتائج کو اہم قرار دیتے ہوئے مزید آزادانہ تصدیق کی ضرورت پر زور دیا۔ جبکہ چند سائنسدانوں نے اس بات پر شکوک کا اظہار کیا کہ آیا ریکارڈ کی گئی ثقلی لہروں سے واقعی ایونٹ ہورائزن کی خصوصیات کا براہِ راست اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
بلیک ہول خلا میں ایک ایسا خطہ ہے جہاں کشش ثقل کی کشش اتنی شدید ہوتی ہے کہ کوئی بھی چیز — یہاں تک کہ روشنی بھی — بچ نہیں سکتی۔ وہ اس وقت بنتے ہیں جب بڑے ستارے اپنی زندگی کے اختتام پر ٹوٹتے ہیں، مادے کی ایک بہت بڑی مقدار کو ایک ناقابل یقین حد تک چھوٹی جگہ میں پیک کرتے ہیں۔ بلیک ہول ایونٹ ہورائزن کی کلیدی اناٹومی: بلیک ہول کے گرد غیر مرئی حد جہاں کشش ثقل روشنی کو پھنسانے کے لیے کافی مضبوط ہے۔ ایک بار جب کوئی چیز اس دہلیز کو عبور کر لے تو وہ بچ نہیں سکتی۔ یکسانیت: ایک بلیک ہول کا مرکز جہاں تمام مادے کو ایک لامحدود چھوٹے، گھنے نقطہ میں کچل دیا جاتا ہے۔ اس مقام پر، طبیعیات کے معلوم قوانین لاگو ہونا بند ہو جاتے ہیں


