25 مکمل فنڈڈ فیلوشپس کا اعلان، پاکستان کی جامعات اور تحقیقی ادارے صومالیہ کی استعداد کار بڑھانے میں کردار ادا کریں گے
اسلام آباد (نیوزرپورٹر)اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی وزارتی قائمہ کمیٹی برائے سائنسی و تکنیکی تعاون (کامسٹیک) نے صومالیہ کے سفارت خانے کے تعاون سے کامسٹیک-کنسورشیم آف ایکسی لینس (CCoE) صومالیہ پروگرام کے دوسرے مرحلے کا باضابطہ آغاز کر دیا، جس کے تحت صومالیہ میں مقیم سائنسدانوں، محققین اور ماہرین کے لیے 25 مکمل فنڈڈ فیلوشپس فراہم کی جائیں گی۔تقریب میں مختلف سرکاری و نجی جامعات کے وائس چانسلرز اور ریکٹرز، سوڈان، تاجکستان، یمن اور روانڈا کے سفراء، صومالیہ کے سفارت خانے کے حکام اور کامسٹیک کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔
کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ انسانی وسائل کی ترقی کامسٹیک کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور مسلم دنیا کی پائیدار ترقی تعلیم، سائنسی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور ہنرمند افرادی قوت کی تیاری سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کا دوسرا مرحلہ صومالیہ کے نوجوان سائنسدانوں، محققین اور پیشہ ور افراد کو عالمی معیار کی تعلیم اور تربیت فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے صومالیہ کے تعلیمی اور سائنسی شعبوں کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
صومالیہ کے سفیر شیخ نور محمد حسن نے کامسٹیک، حکومت پاکستان اور کنسورشیم آف ایکسی لینس سے وابستہ جامعات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام صومالیہ کے سائنسدانوں، محققین اور ماہرین کو جدید علوم اور عملی مہارتیں حاصل کرنے کا بہترین موقع فراہم کرے گا۔ انہوں نے اسے پاکستان اور صومالیہ کے برادرانہ تعلقات اور او آئی سی ممالک کے درمیان سائنسی تعاون کی بہترین مثال قرار دیا۔
پروگرام کے تحت تین اور چھ ماہ کی تحقیقی فیلوشپس، پبلک ہیلتھ، نرسنگ، الائیڈ ہیلتھ سائنسز، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، سائبر سیکیورٹی، جغرافیائی معلوماتی نظام (GIS)، ریموٹ سینسنگ، بایوٹیکنالوجی، ڈیجیٹل اسکلز، پریسیژن ایگریکلچر، فوڈ پروسیسنگ اور زرعی تحقیق سمیت متعدد جدید شعبوں میں خصوصی تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ پاکستانی اور صومالی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیق، فیکلٹی ایکسچینج، نصاب کی تیاری اور ادارہ جاتی تعاون کو بھی فروغ دیا جائے گا۔
یہ پروگرام کامسٹیک اور صومالیہ کے سفارت خانے کے اشتراک سے چلایا جائے گا جبکہ درخواستوں، انتخاب اور تربیتی اداروں میں تعیناتی کا عمل مشترکہ طور پر مکمل کیا جائے گا۔
تقریب کے شرکاء کو بتایا گیا کہ کامسٹیک کی سال 2025 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ادارے نے گزشتہ سال 54 ممالک میں سائنسی و تعلیمی پروگراموں کے ذریعے تقریباً 5 ہزار سائنسدانوں اور محققین کو تربیت فراہم کی، 759 اسکالرشپس اور فیلوشپس دیں، 68 تربیتی پروگرام منعقد کیے، 52 تحقیقی گرانٹس جاری کیں اور 174 سائنسی و ترقیاتی منصوبے مکمل کیے۔ کامسٹیک اس وقت او آئی سی ممالک میں سائنس، اعلیٰ تعلیم، تحقیق، اختراع اور انسانی وسائل کی ترقی کے فروغ کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔



