اب 25 کلو واٹ تک بجلی پیدا کرنے کی سہولت پر نیپرا سے اجازت نہیں لینا پڑی گی
پاکستان ان ممالک میں شامل ، جہاں تیزی سے شمسی انقلاب برپا ہو رہا ہے،15 سے 25 فیصد گھرانے سولر استعمال کر رہے
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)ملک میںسولر صآرفین کے لئے ایک بڑی خوشخبری اس وقت سامنے آئی ہے جب نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سولر ریگولیشنز 2026 میں ترمیم کرتے ہوئے 25 کلو واٹ تک بجلی پیدا کرنے کی سہولت پر نیپرا سے اجازت لینے کی شرط ختم کر دی گئی ہے. نیپرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق سولر صارفین کو 25 کلو واٹ تک بجلی پیدا کرنے کی سہولت پر نیپرا سے اجازت نہیں لینے پڑی گی۔متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنی کو براہ راست منظوری دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں مہنگی بجلی اور لوڈشیڈنگ بحران کے بعد عوام میں سولر سسٹم کے استعمال میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں بجلی کے بحران اور مہنگی ترین بجلی ہونے کے باعث لوگ تیزی سے شمسی توانائی کی جانب منتقل ہو رہے ہیں اور پاکستان ان ممالک میں شامل ہو گیا ہے، جہاں تیزی سے شمسی انقلاب برپا ہو رہا ہے۔
مہنگی بجلی کے باوجود دستیاب نہ ہونے کے باعث امیر کے ساتھ اب نچلا طبقہ بھی سولر سسٹم کی جانب راغب ہو رہا ہے اور اس سلسلے میںگھریلو اور صنعتی صارفین کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ تخمینوں سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً 15 سے 25 فیصد تک پاکستانی گھرانے اب کسی نہ کسی شکل میں شمسی توانائی کا استعمال کر رہے ہیں۔اس استعمال میں روشنی کے بنیادی حل سے لے کر پورے گھریلو بجلی کے نظام یا نیشنل گرڈ سے منسلک ہائبرڈ سیٹ اپ شامل ہیں۔




