اسپورٹس بورڈ کے پنشن متاثرین سڑکوں پر آنے پر مجبور

بزرگ پینشنرز کی وفاقی وزیر سے ملاقات کی کوشش ناکام،انسانی المیہ سنگین تر ہو تا جارہا ہے

اسلام آباد، کراچی (خصوصی رپورٹ) پاکستان اسپورٹس بورڈ (PSB) کے ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن بندش کا انسانی المیہ سنگین تر ہوتا جا رہا ہے، جس کی تصدیق متاثرہ پینشنرز اور ان کے اہل خانہ سے ہونے والے حالیہ رابطوں سے ہوتی ہے۔ پینشنرز ایکشن کمیٹی نے ہسپتال سے ڈسچارج ہونے والے علیل ملازمین کی خیریت دریافت کی اور پینشن کی فوری بحالی کے لیے وفاقی دارالحکومت میں بھاگ دوڑ تیز کر دی ہے۔
کمیٹی کے مطابق پی ایس بی کوچنگ سینٹر کراچی کے سابق ڈائریکٹر محکم الدین منگریو کی طبیعت میں بفضلِ خدا کچھ بہتری آئی ہے، تاہم وہ خود شدید علالت کے باوجود اپنے بقایاجات کی عدم ادائیگی اور اپنے ساتھی سابق ہیڈ ویٹر غلام رسول کی تشویش ناک حالت پر شدید ذہنی اضطراب کا شکار ہیں۔
غلام رسول کے بیٹے سفیر نے بتایا کہ ان کے والد کو اسپتال سے ڈسچارج تو کر دیا گیا ہے، لیکن فالج کے مہلک اثرات کے باعث ان کی خوراک کی نالی شدید متاثر ہوئی ہے، جس کی وجہ سے وہ نلکی (Feeding Tube) کے ذریعے خوراک لینے پر مجبور ہیں اور مکمل طور پر معذور ہو کر چلنے پھرنے سے قاصر ہیں۔
ادویات اور خصوصی نگہداشت کے اخراجات نے اس سفید پوش خاندان کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ دوسری جانب ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ شدید مایوسی کے عالم میں چند پینشنرز اور بیواؤں نے وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثنا اللہ خان سے ان کے دفتر اور رہائش گاہ پر ملاقات کی متعدد کوششیں کیں تاکہ تہرے اختیارات کے حامل افسر کی من مانیوں اور فنڈز کی مبینہ منتقلی کے حقائق ان کے سامنے رکھ سکیں، لیکن وفاقی وزیر کی عدم موجودگی کے باعث یہ ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔ پینشنرز کا کہنا ہے کہ اربابِ اختیار کی یہ بے رخی معصوم یتیموں اور بیواؤں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔متاثرین نے دوٹوک موقف اختیار کیا ہے کہ اگر رواں مالی سال کے بجٹ سے ان کی تین ماہ کی پینشن فوری بحال نہ کی گئی اور تہرے عہدوں پر براجمان بیوروکریسی کے من مانے فیصلوں کا نوٹس نہ لیا گیا، تو وہ شدید علیل ملازمین کو اسٹریچرز پر لے کر پارلیمنٹ ہاؤس اور پریس کلب کے باہر تاریخی احتجاج پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہو گی۔