Riz-May13+5
اسلام آباد(نیوزرپورٹر)سینیٹ میں مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خان اور حکومتی سینیٹر فیصل جاوید کے درمیان نوک جھوک ، جملے کسنے سے ایوان میں قہقے گونج اٹھے۔سینٹر مشاہد اللہ پی آئی اے کی کراچی سے اسلام آباد شفٹ کرنے کی بحث میں حصہ لے رہے تھے جس پر حکومتی سینیٹر فیصل جاوید بار بار ان کی تقریر کے دوران خلل ڈال رہے تھے جس پر مشاہداللہ خان نے کہاکہ جی انڈہ جی چونچ باہر نکالوجس پر سینیٹر فیصل جاوید اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے اور کہا جی باباجی جس پر مشاہد اللہ خان نے کہا بیٹاجی یہاں آپ سیکھنے آتے تو آج وہاں نہیںیہاں ہماری طرف بیٹھے ہوتے یہ نئے بچے ہیں ایسے ہی جھلکیاں بناتے ہیں۔ چیئرمین نے کہا یہ تمام الفاظ کاروائی سے حذف کئے جائیں جس پر سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہاکہ آپ سیکھیں میرے بچے کیونکہ آپ نے مجھے ابا جی کہا ہے جس پر سینٹر فیصل جاوید نے کہاکہ میں نے باباجی کہا ہے مشاہد اللہ نے کہا بابا جی بھی ابا جی ہی ہوتے ہیں ۔ سینیٹر مشاہد اللہ نے کہا کہ ان کو تین منہ والا کیڑا ہے جوان کو بیٹھنے نہیں دیتا ہے 2 منہ والا کیڑا سو بھی جائے تو تیسرے منہ والا پھر ان کو جگا دیتا ہے ۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یہ الفاظ حذف کئے جائیں مشاہد اللہ خان نے کہا کہ کیڑے کو حذف کردیں ان کا کیڑا نکال دیں اس دوران ایوان قہقوں سے گونجتا رہا۔ ایوان میں موجود حکومتی سینیٹر بھی ان کی باتوں پر مسکراتے رہے ۔



