سحری کے وقت اس کام سے جہاں پائلٹس کو تربیت دی جاتی ہے وہاں لوگوں کو سحری کے لئے جگانے کا کام بھی ہوتا جاتا ہے
پاکستان کے بعض علاقوں میں موٹرسائیکل سوار سحری کے وقت اونچی آواز میں نعتیہ کلام لگا کرتنگ گلیوں میں گشت کرتے ہیں
اہل اسلام کو رمضان المبارک میں سحری کے لئے جگانے کی روایت نئی نہیں ہے اس کا آغاز رمضان کے روزے فرض ہونے کے ساتھ ہی شروع ہوگیا تھا اور یہ کسی نہ کسی صورت آج تک برقرار ہے۔ شہروں میں جہاں زندگی مصروف اور سحری میں اٹھنے کے لئے سہولیات زیادہ ہوگئی ہیں وہاں سحری کو جگانے والے بھی آہستہ آہستہ ختم ہو چکے ہیں۔ تاہم پاکستان کے دوردراز دیہات میں یہ سلسلہ اب بھی کسی نہ کسی طرح جاری ہے۔ سحری کے وقت عوام کو روزے کے لئے جگانا جہاں ایک ثواب سمجھا جاتا ہے وہیں تسلسل سے جگانے والے رمضان کے آخری دنوں میں دن کے وقت بھی آجاتے ہیں اور معاوضے کے طور پر کچھ عیدی بھی لے جاتے ہیں۔
دنیا کی طرح وطن عزیز کے مختلف علاقوں میں بھی سحری کے لئے جگانے کے مختلف طریقے رائج رہے ہیں۔کوئی سحری کے وقت گلی کوچوں میں گھوم کر زور زور سے ڈھول پیٹتے ہیں،کوئی دروازے کھٹکھٹاتے ہیں تو کوئی آوازیں لگاتے ہیں۔وہ سحری کو جگانے والے تو اب نہ جانے کہاں گئے۔ پاکستان سمیت دنیا کے تمام علاقوں میں یہ خوبصورت روایت اب ختم ہو تی جارہی ہے۔
تاہم اسلامی ملک انڈونیشیا میں یہ روایت اب ایک جدید انداز سے جاری ہے۔انڈونیشیا ء کی حکومت نے اس مسئلے کا ایک خوبصورت حال نکالا ہے اور ایک تیر سے دو شکار کئے جارہے ہیں۔انڈونیشیاء میں سحری کے وقت اس کام سے جہاں پائلٹس کو تربیت دی جاتی ہے وہاں لوگوں کو سحری کے لئے جگانے کا کام بھی ہوتا جاتا ہے اور یہ سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔ اس طرح پائلٹس کی تربیت بھی ہوجاتی ہے اور روزہ داروں کو سحری کے لئے جگانے کا فریضہ بھی سرانجام پا جاتا ہے۔



