محمد عارف شاہین
اسلام آباد۔۔۔۔۔سی ڈی اے کے افسران نے ڈیلی ویجز ملازمین کو نکالنے کیلئے انکوائری رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ بھجوادی۔ سی ڈی اے افسران نے اپنے من پسند افسران کو بچانے کیلئے ڈیلی ویجز افسران کو قربانی کا⇔ بکرا بنا دیا۔ چوہدری نذیر نے اپنا اور ارشد افریدی کا نام بچانے کیلئے ایف آئی اے حکام کو گمراہ کیا۔ تفصیلات کے مطابق سی ڈی اے سال 2011-12کے دوران ریگولر بھرتی ہونے والے افسران کی بھرتی کے خلاف ایف آئی اے ایک انکوائری کر رہا یھا ۔ جس کے لئے ایف آئی اے نے باقاعدہ لیٹر لکھا جس مین واضح طور پر درج تھا کہ انکوائری براہ راست ریگولر بھرتی ہونے والے افسران کے خلاف ہے۔ عرصہ میں ریگولر بھرتی ہونے والے افسران میں ایچ آر ڈی میں تعینات ارشد افریدی بھی شامل ہیں جس نے اپنا نام بچانے کیلئے انکوائری کا رخ ڈیلی ویجز افسران کی طرف موڑ دیا۔ حالانکہ ڈیلی ویجز پر بھرتی ہونے والے افسران اسوقت سے لے کر اب تک عریگولر نہین ہوئے۔ایچ آر ڈی میں تعینات چوہدری نذیر جو خود کیڈ ر تبدیل کر کے فنانس سے ایگزیٹو میں آئے ہیں نے اپنا نام کیڈر تبدیل کرنے والی انکوائری میں نہ بھیجا یہ ہی وجہ ہیکہ پورے سی ڈی اے میں کیڈر تبدیل کرنے والے افسران اپنے کیڈر میں واپس جا چکے ہیں مگر چوہدری نذ یر چونکہ ممبر ایڈمن یاسر پیر زادہ کے دست راست ہیں یہی وجہ ہے کہ ممبر ایڈمن نے اس بد عنوان افسر کو ڈپٹی ڈائریکٹر ون ونڈو کا چارج دے دیا ہے جہاں پر روازانہ کروڑون کے پلاٹ ترانسفر ہوتے ہیں اور مذکورہ افسر روزانہ لاکھوں کی دیہاڑی لگاتے ہیں اور اس کا حصہ اپنے اعلی افسران کو بھی پہنچاتے ہیں۔ چوہدری نزیر اور ارشد آفریدی اور نے اپنے اُ کو بچانے کیلئے ڈیلی ویجز افسران کو قربانی کا بکرا بنایا اور ایک محکمانہ انکوائری ڈیلی ویجز اسران کے خلاف کرو ا دی۔ جس کی فائنڈنگ میں ہے کہ اخبار میں اشتہار ہی نہیں شائع ہوا جبکہ اشتہار صرف ریکولر بھرتی کیلئے ہوتا ہے۔ ڈیلے ویجز اہلکاروں کی بھرتی کے لئے پورے ملک مین کہین اشتہار نہیں دیا جاتا ہے۔ اب ممبر ایدمن یاسر پیر زادہ نے ان افسران کو نکالنے کے لئے ہائکورٹ مین بھی کیس بھیج دیا ہے جبکہ اس متنازعہ انکوائری کو ایف آئی اے مین بھی بھیج دیا گیا ہے۔
سی ڈی اے ، ممبر ایڈمن نےریگولر افسران کا ملبہ ڈیلی ویجز پر ڈال دیا




