پاکستان میں سی پیک اتھارٹی کا قیام سماجی و معاشی کی رفتار کو تیز کر ے گا،ِ سی پیک اتھارٹی متعدد ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کو بہتر بنانے کیلئے قائدانہ کردار ادا کرے گی جسے آئینی تحفظ بھی حاصل ہو گا، اتھا رٹی سے فو ری طو ر پر ایم ایل ون منصوبہ اور گوادر ماسٹر پلان مستفید ہوں گے،سی پیک اتھارٹی کا قیام قومی اتفاق رائے کی ایک واضح مثال ہے، چینی میڈ یا

بیجنگ:پاکستان میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی کا قیام سماجی و معاشی ترقی کی رفتار کو تیز کرے گا،سی پیک اتھارٹی متعدد ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کو بہتر بنانے کیلئے قائدانہ کردار ادا کرے گی جسے آئینی تحفظ بھی حاصل ہو گا،چین کے معروف میڈیا گروپ چائنہ اکنامک نیٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں پاکستان کی جانب سے سی پیک اتھارٹی کے قیام کے اقدام کو سراہا گیاہے،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اتھارٹی کا قیام سماجی و معاشی ترقی کی رفتار کو تیز کرے گا،سی پیک اتھارٹی متعدد ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کو بہتر بنانے کیلئے قائدانہ کردار ادا کرے گی جسے آئینی تحفظ بھی حاصل ہو گا۔اس اقدام کو خوش آمدید کیا جارہا ہے،پاکستان کی تاریخ میں بہت کم دیکھا گیاہے کہ متعدد منصوبوں کیلئے قومی اتفاق رائے حاصل کیاگیا ہو،اگر تمام امور کا جائزہ لیا جائے تو سی پیک اتھارٹی کا قیام قومی اتفاق رائے کی ایک واضح مثال ہے،سی پیک اتھارٹی کو جلد پارلیمنٹ سے منظوری مل جائے گی، ریلوے کا ایم ایل ون منصوبہ اور گوادر ماسٹر پلان فوری طور پر سی پیک اتھارٹی سے مستفید ہونگے،یہ امید کی جا رہی ہے کہ سی پیک اتھارٹی آئندہ 4سے 5ماہ میں کام شروع کر دے گی، چین اور پاکستان میں سی پیک اتھارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے سی پیک کیلئے ون ونڈو پلیٹ فارم کام شروع کر دے گا جس کی مدد سے پیچیدہ معاملا ت اور رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے گا،اتھارٹی کی مدد سے تمام جاری منصوبوں پر کام کی رفتار تیز ہو سکے گی مختلف اداروں کے مابین سی پیک منصوبوں کے حوالے سے سمجھ بوجھ بہتر ہوگی،سی پیک اتھارٹی کا مقصد تمام شراکت داروں کو ایک چھت تلے جمع کرنا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو کاروبار کرنے میں سہولیات فراہم کی جا سکیں،2018 میں پاکستان آرمی کی جانب سے ایک گرین بک شائع کی گئی جس میں سی پیک کو درپیش چیلنجز اور مواقعوں کا ذکر کیاگیا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ سی پیک منصوبوں کی رفتار کو بہتر بنانے کیلئے بیورو کریسی کی جانب سے حائل رکاوٹوں کا خاتمہ سی پیک اتھارٹی کے قیام سے ممکن ہو سکتا ہے اب جب کہ سی پیک اتھارٹی قائم ہو رہی ہے تو منصوبوں کے حوالے سے سنٹرلائز کمانڈ کنٹرول سسٹم عمل میں آئے گا جس کی مدد سے گوادر ماسٹر پلان پر بھی کام تیز ہوگا سی پیک اتھارٹی چین اور پاکستان کے مابین مقامی قوانین کی سمجھ بوجھ بہتر بنائے گی۔