
مودی سرکار کی کشمیر میں کارروائیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ایک طرف بھارت کشمیر میں ظلم ڈھا رہا ہے تو دوسری طرف آسام کے مسلمانوں سے شہریت ہی چھین رہا ہے جبکہ خالصتان سمیت کئی باغیانہ تحریکیں بھی بھارت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے درپے ہیں۔اس ساری کشمکش کے دوران کیرالہ جیسی ریاست کے کالج میں پاکستانی پرچم آویزاں ہو جانا بھارت کے لیے ایک بڑی مشکل تھی۔تاہم کیرالہ کے کالج میں پاکستانی پرچم لہرائے جانے کی وجہ بھی سامنے آ گئی ہے جو کہ سوشل میڈیا پر ایک بڑا موضوع بحث بنا ہوا تھا۔جبکہ کالج میں پاکستانی پرچم لہرانے پر 30 سے زائد طلبہ کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا گیا۔
انڈیا ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن (ایم ایس ایف) سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے 2 روز قبل پیرامبرا سلور کالج کے اندر پاکستانی پرچم لہرایا تھا۔
رپورٹ کے مطابق طلبہ کالج میں یونین کے انتخابات کے حوالے سے احتجاج کر رہے تھے اور اس دوران انہوں نے پاکستانی پرچم بھی اٹھایا ہوا تھا۔طلبہ کی جانب سے کالج کے اندر پاکستانی پرچم لہرانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوگئی تھی۔بعد ازاں کیرالا کے ضلع کوزی خوڑ میں پیرامبرا پولیس نے مبینہ طور پر کالج کے اندر پاکستانی پرچم لہرانے پر طلبہ کے خلاف مقدمہ درج کردیا۔دوسری جانب طلبہ کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کا اندازہ نہیں ہوا تھا کہ پرچم بہت بڑا ہے اور ہمسایہ ملک پاکستان کے پرچم سے مماثلت رکھتا ہے۔بھارتیمیڈیا کی رپورٹ کے مطابق کالج کے طلبہ نے کہا کہ یہ واقعہ مکمل طور پر غلط فہمی کا نتیجہ تھا۔تاہم پولیس نے طلبہ کے خلاف بھارتی آئین کی شق 143، 147، 153 اور149 کے تحت مقدمہ درج کرلیا، اس حوالے سے ملوث طلبہ کی شناخت کی تصدیق کے بعد مزید تفتیش کی جائے گی۔




