
اسلام آباد :حکومت کی تین سالہ کار کرگی تقریب آدھا تیتر آدھا بٹیر کے مترادف تھی۔حکومتی کارکردگی کا اصل جج عام آدمی ہوتا ہے۔مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی۔بیرونی اور گردشی قرضہ بڑھے۔روپے کی قدر کم ہوئی۔اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔وزیراعظم کی تقریر سلگتے ہوئے زمینی حقائق کا مکمل احاطہ نہیں کرتی۔تقریب کے شرکا کا جنون پہلے سے ٹھنڈا نظر آیا۔تاہم کرونا وائرس کے تناظر میں حکومت کو شک کا فائدہ دیا جا سکتا ہے۔چیئرمین آزاد عوام تحریک جا وید انتظار نے حکومتی تین سالہ کارکردگی تقریب پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنے میں ناکام ہوئی۔پارلیمنٹ میں ازحد ضروری میثاق معیشت پر کام نہیں ہوا۔ حکومت کے اندر موجود مافیاز کو کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ملک میں جرائم اور کرپشن پہلے سے زیادہ بڑھی۔انصاف کہیں نظر نہیں آتا۔ادویات کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہیں۔کفایت شعاری کے نام پر پچاس سے زائد وزرا اور مشیروں کی فوج ظفر موج بھرتی کی گئی۔جو کارکردگی کے اعتبار سے قومی خزانے پر بوجھ ہے۔کلین اینڈ گرین پاکستان،یکساں نصاب تعلیم اور کرونا وائرس پر حکومتی کارکردگی قابل تعریف ہے ۔


