
اورنج لائن ٹرین کے معاملات سنبھل نہ سکے کہ حکومت نے بلیو لائن میٹرو ٹرین منصوبے کے لئے بھی ایشین بینک سے قرض لینے کا فیصلہ کرلیا۔ وفاقی حکومت کو تین سو ساٹھ ارب روپے کا کانسپٹ پیپر بھجوا دیا گیا۔ پنجاب حکومت کی جانب سے ستائیس کلومیٹر ٹریک پر اورنج لائن کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ تاہم بڑی لاگت کا منصوبہ ہونے اور مختلف جگہوں پر حکم امتناعی کے باعث پنجاب حکومت مشکلات کا شکار ہے لیکن اس کے باوجود دگنی لاگت کے بلیو لائن ٹرین منصوبے کا کانسپٹ پیپر اکنامک آفیئرز ڈویژن کو بھجوا دیا گیا۔ کانسپٹ پیپر کے مطابق بلیو لائن میٹروٹرین کے لئے 360 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا، جس کے لئے ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بنک سے قرض دینے کی درخواست کی جائے گی۔ تاہم ابھی تک ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بنک نے پراجیکٹ کی زیادہ لاگت پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اس کے لئے قرض فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ ماہ ایشین بنک کا وفد پنجاب حکومت کے اعلی افسران سے ملاقات کرے گا جس میں انہیں منصوبے پر قائل کرنے پر بریفنگ دی جائے گی



