منصوبے سے ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی اور خطے میں خوشحالی آئے گی۔،ڈاکٹر ہزال بن حمود العتیبی
اسلام آباد:بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے صدر ڈاکٹر ہزال بن حمود العتیبی نے کہا ہے کہ سی پیک پاکستان کے لیے ہی نہیں بلکہ اس پورے خطے اور عالم اسلام کے لیے بھی ایک مفید اور دور رس اثرات کا حامل منصوبہ ہے۔یقینا اس سے پاکستان کو فایدہ پہنچے گا اور پاکستان مضبوط ہوگا۔ اس کے اثرات عالم اسلام پر بھی مرتب ہوں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سی پیک پر ہونے والی ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کانفرنس میں شرکت کرنے والے ملکی اور عالمی محقیقین کے مکالمات اور ان میں پیش کئے گئے خیالات پر انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے ذریعے ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی،اسلامی یونیورسٹی کو عالمی سطح کی یونیورسٹی بنانے کے لیے کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں مختلف سطحوں پر کام ہو رہا ہے،اور مختلف شعبوں میں بہتر کارکردگی دکھانے پر ان کو انعامات دئیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ آ ئند ہ تین سالوں میں ہم اسے دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کے صف میں کھڑا کر دیں گے۔انہوں نے کانفرنس کے انعقاد پر آ ئی آ ر ڈی اور یونیورسٹی کے شعبہ سماجی علوم کابھی شکریہ ادا کیا اور توقع ظاہر کی کہ اس طرح کی مزید کانفرنسیں اور سیمینار بھی منعقد کئے جائیں گے جن کی سفارشات کو کتابی شکل میں بھی شائع کیا جائیگا۔اس موقع پر اقبال انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر حسن الامین نے کہا کہ سی پیک کے بارے میں زیر گردش مختلف بیانیوں کی تشکیل کے اسباب پر علمی انداز میں غور و حوض اور سفارشات کے ذریعے ایک متفقہ قومی بیانیہ کی ترویج اس کانفرنس کا بنیادی مطمع نظر تھا۔انہوں نے کہا کہ سی پیک بلا شبہ ایک بہت بڑا منصوبہ ہے جس کے لئے ہمیں چین کا شکر گزار ہونا چاہیے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی ترقی کے لیے اپنی سطح پر مزید منصوبے بھی زیر عمل لائے جائیں تاکہ باہر کی امداد اور سرمائے پر ہمارا انحصار کم سے کم ہوسکے۔بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ادارہ اقبال انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کے زیر اہتمام سی پیک اور اسے متعلق بیانیوں کی تشکیل وتجزیہ کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس جمعرات کو پالیسی ساز اداروں کے لیے متعدد تجاویز دینے کے بعد اختتام پذیر ہوگئی۔ان تجاویز میں کہا گیا ہے کہ سی پیک کینصوبے کے بارے میں اہل پاکستان نے اپنا بہت سا وقت اور صلاحیتیں اس کے بارے میں بیانیوں پر بحث و تمحیص گزار دیئے ،اسیںطرح کئی بیانیوں کے جواب درجواب بیانیوں کی تشکیل پر بھی بہت سا وقت صرف کیا گیا۔سفارشات میں اس بات پر زوردیا گیا ہے کہ سی پیک پر سیاسی ،عالاقائی اور لسانی بنیادوں پر بیان بازی کو ترک کر کے ایک متحد و متفق قومی موقف اپنایا جانا چاہیے تاکہاس کی بنیاد مضبوط ہوسکے۔


