
اسلام آبادق….ائد حزب اختلاف قومی اسمبلی سید خورشید احمد شاہ نے اج قومی اسمبلی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ہے کہ
ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان سے پیدا شدہ صورت حال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ کسی فرد یا پارٹی کا نہیں بلکہ پاکستان کا مسئلہ ہے اور جہاں پاکستان کا مسئلہ ہو وہاں ہمیں کوئی سیاست نہیں کرنی چاہئے۔ ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیئے ہم تمام سیاست ایک طرف، رکھ کر یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہم متحد ہیں۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا رویہ انتہائی افسوسناک ہے اور اسکی الزام تراشی کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ
پاکستان نے افغان جنگوں میں امریکہ کا حلیف بن کر بہت بڑی قیمت ادا کی ہے اور ہمارے نقصان کا کوئی تدارک ممکن ہی نہیں ہے۔
انہوں نے کیا کہ ہم نے امریکہ کے آگے جھک کر اسے ہر سہولت مہیا کی اور 79 سے لیکر اب تک ہم امریکہ کی جنگ سے نکل نہیں سکے۔ اور پھر
نائن الیون کے بعد پاکستان کو ڈو مور ڈو مور پر لگا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی کی وجہ موجودہ حکومت ہے جس نے چار سالوں میں اپنا وزیر خارجہ بھی مقرر نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ
ٹرمپ نے تینتیس ارب ڈالر کی بات کر کے چھوٹے پن کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ
پاکستان کو امریکہ سے تعلقات کی پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہو گی اور یہی ہمارے مسئلے کا حل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں متحد ہو کر امریکی رویے کا جواب دینا ہے اور آپس میں تقسیم نہیں ہونا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر کوئی این آر او سعودیہ میں ہورہا تو پھر عدالتوں کو تالے لگادی نے چاہئیں۔ عمران خان کے ایک بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کیا کہ میں عمران خان کو چیلنج کرتا ہوں اس کے پاس اگر ثبوت ہیں تو انہیں سامنے لائے اور اگر میرے خلاف کیسز ہیں تو انہیں کھولا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جھوٹے پروپیگنڈے کے عادی ہیں مگر جھوٹ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔




