کلاس رومز اور مدارس میں کیمرے لگا کر بچوں کے جنسی استحصال کا خاتمہ کرسکتے ہیں
گٹر میں بچوں کے گرنے کے واقعات ہماری عدم توجہی کا سبب ہیں،وفاقی سیکرٹری مذہبی امور
وزارتِ مذہبی امور ، یونیسیف کے اشتراک سے اسلامک ریلیف پاکستان کا تحفظِ اطفال بذریعہ مذہبی عقائد پر بین المذاہب مکالمہ
اسلام آباد(نیوزرپورٹر)بچوں کا تحفظ مذہبی رہنمائی ، سماجی رویوں میں مثبت تبدیلی سے ممکن ہے ۔ یہ بات وفاقی سیکرٹری مذہبی امور ڈاکٹر سید عطا الرحمن نے وزارتِ مذہبی امور ، یونیسیف کے اشتراک سے اسلامک ریلیف پاکستان کے زیر اہتمام بین المذاہب مکالمہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ تقریب کا مقصد پاکستان بھر میں بچوں کے تحفظ کے لیے متحد، مؤثر اورمذہبی عقائد پر مبنی حکمتِ عملی کو مضبوط بنانا اور معاشرے میں بچوں کو محفوظ ماحول، پیار، اچھی تعلیم و تربیت، صحت و ترقی کے مواقع کا جائزہ لینا تھا۔ تقریب کے مہمان خصوصی وفاقی سیکرٹری مذہبی امور نے کہا کہ آج دنیا کا سب سے اہم کام بچوں کے تحفظ، تعلیم، تربیت اور صحت سے متعلق ہے ۔ وزارت مذہبی امور بچوں کی تربیت، تحفظ، علماء کے درمیان رابطے سمیت دیگر تعاون کیلئے ہمہ وقت تیار ہے ۔ گھروں میں کام کرنے والے اور ورکشاپس میں کام کرنے والے زیادہ ہماری ہمدردی کے مستحق ہیں ۔ ان بچوں کی تعلیم و تربیت کا خاطر خواہ انتظام بہت ضروری ہے ۔ اگر کام کی جگہ پر کیمرے لگ سکتے ہیں تو پھر کلاس رومز، مدارس میں بھی یہ کام کیا جاسکتا ہے ۔ اس طرح سے ہم تعلیمی اداروں میں جنسی استحصال کا خاتمہ کرسکتے ہیں ۔ گٹر میں بچوں کے گرنے کے واقعات ہماری عدم توجہی کا سبب ہیں۔ بچوں کا تحفظ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہو کا متفقہ فتویٰ انتہائی لائق تحسین ہے ۔ انہیں اس کاوش پر اسلامک ریلیف، یونیسیف، علماء کرام، مختلف مذاہبِ کے سکالرز، سول سوسائٹی کا شکریہ ادا کیا۔
افتتاحی خطاب میں اسلامی ریلیف پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر آصف شیرازی نے ادارے کے دیرینہ عزم ، بچوں کا تحفظ، کمیونٹی کی مضبوطی، اور بین المذاہب تعاون کو اجاگر کیا۔ انہوں نے یونیسف اور فتاوی کے مجموعے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا ، جو بچوں کے تحفظ کے فروغ میں مذہبی رہنمائی کے کردار کو مضبوط کرتا ہے۔
یونیسف پاکستان کی نمائندہ شرمیلا رسول نے کہا کہ مذہبی رہنما معاشرتی رویّوں کو تشکیل دینے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اور بچوں کے لیے محفوظ ماحول بنانے میں ان کی شمولیت ناگزیر ہے۔ پاکستان کے ہیومن کیپیٹل انڈیکس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ملک کے بچے 18 سال کی عمر تک اپنی صلاحیتوں کا صرف 50 فیصد تک ہی پہنچ سکتے ہیں۔ انہوں نے چار اہم ترجیحات پر زور دیا جس میں بچوں پر جبری تشدد کا خاتمہ، پیدائشی رجسٹریشن، کم عمری کی شادیوں میں کمی، اور بچوں کی بغیر تشدد تربیت شامل ہے۔
نیشنل کمیشن آن رائٹس آف چائلڈ کی چیئرپرسن سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ پالیسی سطح سے لے کر کمیونٹی تک، مذہبی رہنماؤں کی شمولیت انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مذاہب بچوں کے تحفظ کے اصولوں کی تلقین کرتے ہیں لیکن معاشرہ اب بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہے۔ انہوں نے قوانین کے مؤثر نفاذ، آگاہی بڑھانے، اور مذہبی تعلیمات کی غلط تشریحات کو روکنے کے لیے علماء کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے زور دیا کہ بچوں کا تحفظ ایک مشترکہ سماجی ذمہ داری ہے۔
سعودی عرب دورے پر موجود وفاقی وزیرِ مذہبی امور جناب سردار محمد یوسف جو اپنے ویڈیو پیغام میں مذہبی عقائد پر مبنی بچوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔
یونیسف کی چائلڈ پروٹیکشن اسپیشلسٹ فرزانہ یاسمین نے ملک میں بچوں کے تحفظ سے متعلق بڑے چیلنجز کا ذکر کیا۔ انہوں نے تشدد، غفلت اور نقصان دہ روایات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں، مضبوط سماجی ذمہ داری اور مذہبی رہنماؤں کے مثبت پیغامات کی اہمیت پر زور دیا۔
اسلامی ریلیف پاکستان کی چائلڈ پروٹیکشن اینڈ یوتھ ڈیولپمنٹ اسپیشلسٹ افشاں جمال نے کم عمر بچوں کی شادیوں کی حوصلہ شکنی کے منصوبے پر پیش رفت اور اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے فتاویٰ کے اجراء، اسلامی نظریاتی کونسل اور یونیسف کے تعاون سے تیار کردہ آگہی مواد اور مساجد، گرجا گھروں ، مندروں ، گردواروں اور دیگر مذہبی مقامات میں آگاہی سیشنز کو نمایاں کامیابیاں قرار دیا۔ انہوں نے منصوبے کے تحت خاندانوں کو دیے جانے والے بزنس گرانٹس، بچیوں کے لیے تعلیمی وظائف اور کم عمری کی شادی کی روک تھام کے لیے کیے گئے دیگر اقدامات کا بھی ذکر کیا۔
بین المذاہب پینل کی نظامت اسلامی ریلیف کی چائلڈ پروٹیکشن کوآرڈینیٹر شہناز کوثر نے کی۔ پینل میں شامل مذہبی رہنماؤں نے بچوں کے تحفظ کے بارے میں اپنے اپنے نقطہ نظر پیش کیے۔ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے بچوں سے رحمت، شفقت اور حسنِ سلوک پر زور دیا، ڈاکٹر سیمہ فرزاد نے کہا کہ بچوں کی درست پرورش گھر، اسکول اور معاشرے کے محفوظ ماحول سے جڑی ہے، علامہ عارف واحدی نے بچوں پر بڑھتے ہوئے تشدد آمیز رویّوں پر تشویش کا اظہار کیا ، جبکہ جناب کرسٹوفر شرف نے کہا کہ بچوں کی نشوونما کے ماحول میں ہم آہنگی کا فقدان ایک بڑا مسئلہ ہے، سردار ہومی سنگھ نے بچیوں کی تعلیم اور ان کی رضامندی کو بنیادی حق قرار دیا ، جس میں مذہبی رہنماؤں کا مضبوط کردار تبدیلی لا سکتا ہے۔
ایونٹ کا ایک اہم حصہ بچوں کے تحفظ کے فتاویٰ کا باضابطہ اجرا تھا، جو ملک بھر کے ممتاز مفتیانِ کرام نے تیار کیے ہیں۔ یہ فتاویٰ بچوں کو ہر قسم کے استحصال اور تشدد سے بچانے کو اخلاقی، سماجی اور مذہبی ذمہ داری قرار دیتے ہیں۔
اختتامی خطاب میں آصف شیرازی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو درپیش مسائل—جیسے استحصال، صحت و تعلیم تک رسائی کی رکاوٹیں، اور کم عمری کی شادی—مسلسل توجہ کے متقاضی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اسلامک ریلیف ان مسائل کے حل کے لیے اپنی کوششیں مزید مؤثر اور جامع انداز میں جاری رکھے گا۔ انہوں نے بچوں کے روشن اور محفوظ مستقبل کے لیے مشترکہ سماجی کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔



