اسلام آباد کی اس درجہ بندی کی اہم وجوہات میں نسبتاً کم اخراجات، حفاظت اور رہن سہن کے بعض فوائد ہیں
اسلام آباد(رپورٹ:محمدرضوان ملک)پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد نے 2026 کے وسط سال کے نمیبو معیار زندگی انڈکس(Numbeo Quality of Life Index) میں اسکور کے لحاظ سے نیویارک، لندن اور پیرس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ پاکستان کے لیے ایک خوش آئند خبر ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام آباد زندگی کے ہر شعبے میں ان شہروں سے بہتر ہے۔
پاکستان کے دارالحکومت نے نمیبوں کے 2026 کے وسط سال کے معیار زندگی کے اشاریہ میں 140.7. حاصل کر کے پیرس138.8 نیو یارک137.3 اور لندن 134.8کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اس درجہ بندی میں اسلام اباد کے تحفظ اب و ہوا کم لاگت کو نمایاں کیا گیا ہے.
اسلام اباد اس معاملے میں پاکستان کے دیگر تمام شہروں سے بھی اوپر رہا لاہور 98.4 کراچی 76.1کے ساتھ کچھ بہتر رہے .
اسلام آباد نے اس معاملے میں ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور بڈھا پیسٹ اور جو ہانس برگ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا .
انڈیکس میں قوت خرید صحت کی دیکھ بھال لاگت معیار زندگی رہائش کے استطاعت ٹریفک الودگی اور آب ہوا کو یکجا کیا جاتا ہے اسلام اباد کے مضبوط ترین نتائج اب و ہوا میں ہیں جہاں اس نے 76.9 سکور کیا اور تحفظ میں 69 رہا صحت کی دیکھ بھال کا اسکور 63.7 اور الودگی کا سکور 41.5 رہا دارالحکومت کی اس پوزیشن کے ایک بڑی وجہ کم لاگت ہے اسلام اباد کا لاگت زندگی کا انڈیکس25.3ہے جبکہ نیویارک کا 100 لندن کا 88 اور پیرس کا 86 ہیں یعنی یہاں کے ریاشیوں کو دنیا کے مہنگے شہروں کے اخراجات کا محض ایک حصہ برداشت کرنا پڑتا ہے. یہ درجہ بندی تحفظ کے حوالے سے اسلام اباد کے ریکارڈ میں مزید اضافہ کرتی ہے
اسلام آباد کو برتری کیوں حاصل ہوئی؟
کم اخراجات: نیویارک، لندن اور پیرس کے مقابلے میں روزمرہ زندگی کے اخراجات نسبتاً کم ہیں۔
حفاظت: اسلام آباد کا سیفٹی انڈیکس اس کی مجموعی درجہ بندی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
آب و ہوا: شہر کا موسم اور قدرتی ماحول بھی معیارِ زندگی کے جائزے میں شامل ہیں۔
صحت اور آمدورفت: صحت کی سہولیات، ٹریفک اور سفر کے دورانیے جیسے عوامل بھی انڈیکس کا حصہ ہیں۔
کیا اسلام آباد مجموعی طور پر بھی ان شہروں سے آگے ہے؟ یہ ضروری نہیں۔ Numbeo کا انڈیکس صارفین کی فراہم کردہ معلومات اور مختلف عوامل پر مبنی ہے۔ اس کے برعکس آکسفورڈ اکنامکس کے 2026 گلوبل سٹیز انڈیکس میں نیویارک پہلے، لندن دوسرے اور پیرس تیسرے نمبر پر ہیں۔ دونوں درجہ بندیوں کے پیمانے مختلف ہیں۔
نتیجہ: اسلام آباد کی یہ درجہ بندی نسبتاً کم اخراجات، حفاظت اور رہن سہن کے بعض فوائد کو اجاگر کرتی ہے، لیکن آمدنی، روزگار، رہائش کی استطاعت اور عوامی سہولیات سمیت تمام پہلوؤں پر غور کیے بغیر اسے دنیا کے ان بڑے شہروں سے مجموعی طور پر بہتر قرار نہیں دیا جا سکتا۔




