لندن:برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن بھی کورونا کا شکار ہو گئے ہیں۔برطانوی میڈیا کے مطابق بورس جانسن کا کورونا ٹیسٹ مثبت آ گیا،برطانوی وزیراعظم میں علامات پائی جا رہی تھیں جس کے بعد ان کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیا گیا جو مثبت آیا۔بورس جانسن نے خود کو قرنطینہ کر دیا ہے تاہم وہ انتظامی امور دیکھتے رہیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ ویڈیو لنک کے ذریعے تمام معاملات جاری رکھوں گا۔اس سے قبل شہزادہ چارلس بھی کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔شہزادہ چارلس میں کورونا کی تصدیق کے بعد شاہی خاندان کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی تھی کیونکہ 71 سالہ شہزادے نے کورونا وائرس کا شکار ہونے کے دوران ہی صاحبزادوں شہزادے ولیم اور ہیری سے بھی ملاقات کی تھی ۔ برطانیہ میں کورونا وائرس سے مزید 115 افراد ہلاک ہو گئے جس کے بعد مجموعی تعداد 578 ہو گئی جبکہ مریضوں کی تعداد ساڑھے 11 ہزار سے زائد ہو گئی۔برطانوی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں جان بوجھ کر کھانسنا بھی جرم قرار دیدیا گیا، خود کو کورونا کا مریض ظاہر کر کے طبی عملے پر کھانسنے والے کو دو سال قید ہوگی۔ عوام کو گھروں تک محدود رکھنے کیلئے پولیس کو نئے اختیارات مل گئے، لاک ڈاون کی خلاف ورزی پر گرفتار ہونے والے پر 60 پاونڈ جرمانہ ہوسکے گا۔ہر مرتبہ جرمانہ دوگنا بڑھتا جائے گا۔ اپنا کام کرنے والے محنت کش افراد کے لیے گرانٹ اسکیم کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔چانسلر رشی سونک نے کہا کہ اپنا کام کرنے والے کی ماہانہ تنخواہ کا 80 فیصد حکومت ادا کرے گی۔ ایسے ورکرز پر اڑھائی ہزار پونڈ کی حد لاگو ہوگی۔
وزیر اعظم بورس جانسن کے بعد رکن پارلیمنٹ و اسٹیٹ ہیلتھ سیکریٹری بھی کورونا وائرس کا شکار بن گئے۔وزیر اعظم بورس جانسن اور اسٹیٹ ہیلتھ سیکریٹری سے قبل برطانیہ کی نائب وزیر صحت 62 سالہ نیڈن ڈورس بھی 11 مارچ کو کورونا کا شکار ہوئی تھیں اور اب تینوں اہم حکومتی عہدیدار قرنطینہ میں ہیں۔



