تین ماہ اہم ہیں ، میں اپوزیشن میں چلا گیا تو ان کے لئے اس سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوں گا
وزیراعظم عمران خان کے مذکورہ حالیہ بیانات کے باعث اس ملاقات کے حوالے سے دارالحکومت افوائوں کی زد میں ہے
ملک کو بچانے کے لئے عمران کو نکالنا ضروری ہو گیا ہے اختلاف اپنی جگہ لیکن اس ایجنڈے پر ہم سب متفق ہیں،اپوزیشن

اسلام آباد(تجزیہ :محمدرضوان ملک )اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں کے بڑوں کی حالیہ ملاقات نے حکومتی ایوانوں میں ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے ویسے تو کزشتہ ساڑھے تین سالوں کے دوران اپوزیشن رہنمائوں کی کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں حکومت بنانے کے لئے اتحاد بھی بنے لیکن ان کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا لیکن وزیراعظم عمران خان کے حالیہ بیانات کہ حکومت کے لئے تین ماہ اہم ہیں ، میں اپوزیشن میں چلا گیا تو ان کے لئے اس سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوں گا،وزیراعظم عمران خان کے مذکورہ حالیہ بیانات کے باعث اس ملاقات کے حوالے سے دارالحکومت افوائوں کی زد میں ہے گو حکومتی ترجمانوں نے ایک با ر پھر اس ملاقات کو فضول مشق قراردیتے ہوئے اسے رد کر دیا ہے لیکن واقفان حال یہ کہتے ہیں کہ اس بار صورت حال قدرے مختلف ہے۔ کیونکہ حکومتی کارکردگی سے کوئی بھی طبقہ مطمئن نہیں ہے۔
اس ملاقات کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ شہباز شریف نے یہ ملاقات نوازشریف کی ہدایت پر کی ہے ۔ ملاقات کے بعدا نہوںنے نوازشریف ، مولانا فضل الرحمان اور دیگر اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کئے اور اس ملاقات کے حوالے سے اعتماد میں لیا۔
اس کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر آصف علی زرداری کو ظہرانے پر مدعو کیا۔ بلاول بھٹو اور آصف زراری اپوزیشن لیڈر کی رہائش گاہ ماڈل ٹائون پہنچے جہاں شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا۔یہ ملاقات اس حوالے سے اہم تھی کہ اس میں دونوں اپوزیشن جماعتوں کے وہ تمام بڑے موجود تھے جن کی رائے پارٹی میں فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔شہباز شریف کی معاونت کے لیے مریم نواز، حمزہ شہباز، سعد رفیق، مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں جبکہ بلاول اور زرداری کے ہمراہ حسن مرتضی اور رخسانہ بنگش موجود تھیں۔
دونوں جماعتوں کے وفود کے درمیان احتجاجی لانگ مارچ کا انضمام کرنے اور حکومت مخالف لائحہ عمل سے متعلق اہم گفتگو پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ حکومت کے بہت سے لوگ ہمارے سے رابطے میں ہیں۔
، پاکستان کے حالات روز بروز بگڑتے جارہے ہیں۔ مہنگائی نے غریب عوام کا جینا دو بھر کردیا، عوام حکومت کے کارناموں سے کب کی تنگ آچکی، عمران خان کی حکومت صرف جھوٹے دعوئوں، لارے لپوں کی حکومت ہے، ان سے حکومت سنبھل نہیں رہی کبھی کس کی تھالی میں دیکھتے ہیں کبھی کدھر، حکومت نے غریبوں کے پیسوں پر غریبوں پر بہت تجربے کرلئے۔ ہر جگہ ناکامی کیساتھ بے عزت ہوئے، بس اب غریبوں نے ہاتھ اٹھا لئے۔ اس حکومت کے بہت سے لوگ ہمارے سے رابطے میں ہیں جو تنگ آچکے ہیں۔
لیگی صدر کا کہنا تھا کہ کرپشن اور احتساب کا بیانیہ پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے کا مذموم منصوبہ تھا، کرپشن اور لوٹ مار کے نتیجے میں عوام ایک وقت کی روٹی کو محتاج ہوگئے، عمران نیازی کی وزارت عظمی میں پاکستان کرپشن میں تیزی سے ترقی کررہا ہے اور کرپشن میں بے پناہ اضافہ ہوا، جب آٹا چینی بجلی پٹرول گیس ادویات یوریا ایل این جی کورونا سمیت ہر شعبے میں کرپشن ہوگی تو پاکستان کرپشن انڈیکس میں 140 پر کیسے نہیں جائے گا؟
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے مشاورت کے بعد حکومت کے خاتمے کے لیے تمام قانونی، آئینی اور سیاسی حربے استعمال کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں دہشت گردی نے پھر سر اٹھایا ہے، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور بلوچستان میں پے در پے دہشت گردی کے حملے ہوئے ہیں۔
یہ جو خونخوار اور دہشت گرد لوگ ہیں، ان کو جہنم رسید کرنے کے لیے ہماری افواج پاکستان کے افسران اور جوانوں نے ہمیشہ کی طرح اب بھی جام شہادت نوش کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ بات آپ کی ذہن نشین ہونی چاہیے کہ چاہے پیپلز پارٹی کا زمانہ تھا تو اس وقت ضرب مومن کا آغاز ہوا اور جب نواز شریف کا دور آیا تو ضرب عضب اور ردالفساد کے آپریشن ہوئے اور اس ملک کے اندر دہشت گردی کا تقریبا خاتمہ ہوگیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی ہے کہ پچھلے ساڑھے تین سال میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کو توفیق نہیں ہوئی کہ جو ان کی حکومت سے پہلے نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا گیا تھا اور فعال کام کرتا تھا، اس کو فعال کرتے لیکن اس کو بالکل سرد خانے میں ڈال دیا۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے ہر شعبے میں پی ٹی آئی نے ناکامی اور تباہی مچائی ہے، اسی طرح دہشت گردی کے حوالے سے بھی ان کا رویہ اور کارکردگی پوری قوم کے سامنے ہے۔ان کا کہناتھا کہ آج بے روزگاری، غربت اور مہنگائی نے ہر جگہ ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور یہ میں نہیں بلکہ دنیا کے سروے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان اس وقت دنیا میں تیسرا سب سے مہنگا ملک ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ عوام دن رات ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے ہیں کہ کب اس پاکستان کی ناکام ترین، کرپٹ نااہل اور ناتجربہ کار حکومت سے جان چھٹے گی، حکمران دن رات جھوٹ بولتے ہیں، قوم کو دھوکا دیتے ہیں، یوٹرن مارتے ہیں اور ان کا سارا زور مخالفین پر ہے۔ ان کی ساری قوت مخالفین کو گالیاں دینے کے سوا اور ان کو عوام کے سامنے برا بھلا کہنے کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہے، اس وقت کا آدھا بھی یہ اگر ملک کی خدمت کے لیے وقف کرتے تو پاکستان آج اس تباہی کا شکار نہ ہوتا۔ان کا کہنا تھا کہ 74 برس میں دیکھتی آنکھ نے تباہی کا ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ آج سابق صدر آصف علی زرداری، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو تشریف لائے اور مریم نواز، خواجہ سعد رفیق، حمزہ شہباز اور مریم اورنگزیب سمیت ہم سب نے ان کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خوش آمدید کہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج ہم نے اس وقت پاکستان کی صورت گری ہے، چاہے وہ معاشی تباہی ہے، چاہے وہ آئی ایم ایف کے حوالے سے اور مزید قرضے لیے گئے اور پاکستان کے بچے بچے کو ان قرضوں میں جکڑ دیا گیا اور دن رات قرضوں کے علاوہ کوئی اور بات سننے کو نہیں ملتی۔وزیراعظم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب سن رہے ہیں کہ قرضے لینے کے لیے چین تشریف لے گئے ہیں۔
، پی ٹی آئی اور عمران خان کے دور میں قرضے لینے کی انتہا ہوئی اور ان کی نظیر نہیں ملتی، کھربوں روپے کے قرضے لے لیے گئے، کہیں نئی ایک اینٹ دیکھنے کو نہیں ملتی مگر نواز شریف کی جانب سے افتتاح کیے گئے منصوبوں کے اوپر تختیاں دن رات لگا رہے ہیں اور اس بات کی کوئی شرم بھی نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج ہمیں ہر طرف تباہی اور بربادی کے سوا اور کچھے نظر نہیں آتا لہذا ہم نے آج پی پی پی کی قیادت سے ان تمام باتوں پر گفتگو کی۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ہر پارٹی کا اپنا ایجنڈا اور منشور ہوتا ہے لیکن قوموں کی زندگی پر ایسی مشکل آن پڑے اور کوئی قوم ایسی بدترین صورت حال سے دو چار ہوجائے اور پوری قوم دکھی ہو اور ہر وقت ظالم اور کرپٹ حکومت سے نجات کے لیے دعا کر رہی ہو تو اس صورت کو سامنے رکھ کر تفصیل سے گفتگو کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج عوام کی منشا ان کے ماتھے پر لکھی ہوئی ہے، اگر ہم نے بطور سیاسی جماعتوں، سیاسی قیادت اور سیاسی کارکن کے اپنا ذمہ دارانہ کردار اور ذمہ داری ادا نہ کی تو پھر ہمیں آنے والی نسلیں معاف نہیں کریں گی اور اس وقت قوم بھی معاف نہیں کرے گی۔شہباز شریف نے کہا کہ آج اگر ہم اکٹھے نہ ہوئے اور اپنے اندر ہم آہنگی پیدا نہ کی اور ہم نے ایک ایجنڈے پر اتفاق نہ کیا تو قوم ہمیں معاف نہیں کرے گی، اس لیے ہم نے اتفاق کیا کہ ملک کو اس حکومت سے چھٹکارا حاصل کروانے اور عوام کے دکھوں کو ختم کرنے کے لیے، غربت، بے روزگاری اور مہنگائی سے عوام کو بچانے کے لیے تفصیل سے گفتگو کی۔انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ہمیں تمام آئینی، قانونی اور سیاسی حربوں کو بلاتاخیر استعمال کرنا ہوگا، پی پی پی اس بارے میں واضح ہے لیکن ہماری جماعت میں دو رائے تھی مگر نواز شریف میں بہت حد تک یکسوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج ہم نے طے کیا ہے کہ اگلے چند دن میں مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں مشاورت کریں گے اور ہمارے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں لے کر جائیں گے اور پھر ان کی مشاورت اور اجازت کے ساتھ اس کا فی الفور اور اکٹھا اعلان کریں گے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جب اچھا وقت آئے گا تو سب اپنی سیاست کریں گے لیکن آج ہمیں صرف ایک نکتے پر اکٹھا ہونا چاہیے کہ پاکستان کو اگر تباہی سے بچانا ہے تو حکومت سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا۔
بلاول بھٹو زرداری نے شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پی پی پی نے تفصیل مشاورت کے بعد اپنے فیصلے کیے تھے اور اس کے بعد اسمبلی میں بجٹ پر قائد حزب اختلاف کے ساتھ مل کر مخالفت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے شہباز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی سیاسی قیادت کے سامنے اپنی پارٹی کی سوچ اور منصوبے کو رکھا اور تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور ان کے اتحادیوں نے جو منصوبے بنائے ہیں وہ بھی ہمارے سامنے رکھے گئے، جس پر بھی بات ہوئی ہے اور ہماری پارٹی کے فیصلوں پر مسلم لیگ (ن) کے اندر اور اتحادیوں کے ساتھ بات ہوگی۔بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ فیصلہ ضروری تھا کہ عوام جن مشکل حالات سے گزر رہے ہیں اور معاشی حالات جس سطح پر پہنچے ہیں، وزرا مگرمچھ کے آنسو تو بہا رہے ہیں لیکن ہر موقع پر اور کشمیر کے مسئلے پر وہ نہ تو قوم میں اور نہ ہی قومی اسمبلی میں قومی یک جہتی برقرار رکھ سکے ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ دہشت گردی کی لہر پھر سے سامنے آرہی ہے اور تیزی سے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور پچھلے چند دنوں سے بلوچستان سے جو خبریں آرہی ہیں یہ بہت تشویش کی بات ہے۔چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ اگر ہم نے اس ملک اور پاکستان کو بچانا ہے تو عمران خان کو نکالنا ہے، دیگر پوائنٹس اور معاملات پر ہمارا اپنا اپنا منشور بے شک رہے لیکن عوام کے مطالبات اور عوام کو جو مطالبہ اور قومی مفاد ہو تو مسلم لیگ (ن) ہو یا ہم سب ایک پیج پر ہیں اور پاکستان کے عوام بھی اسی پیج ہیں کہ عمران خان کو جانا چاہیے۔
مریم نواز نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں اختلاف رائے بھی ہوتا ہے اور دوریاں بھی ہوتی ہیں لیکن ہم سب سیاسی جماعتوں کو عوام کی مشکلات اور توقعات جوڑتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب یہ بات آئے گی تو ہم آپس کے اختلافات بھلا کر عوام کی بہتری کے لیے جو ہوگا ہم اس کے لیے اکٹھے آگے بڑھیں گے۔انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ اب واپسی کے راستے پر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔



