
اسحاق ڈار کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس کیس کی سماعت 18 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی،
28 میں سے اب تک 3گواہوں کے بیانات پر جرح مکمل ہوگئی، آیندہ سماعت پر مزید دو گواہوں کو پیش ہونے کا حکم, 3 گھنٹے جاری رہنے والی سماعت میں فریق وکلاء کے مابین سخت جملوں کا تبادلہ بار بار ہوا..
آپ نے میری نظروں میں اپنی عزت کھو دی، آپکے گواہ نے جھوٹ بولا اور غلط بیانی کی،، یہ الفاظ ہیں ملزم اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث کے…
دستاویزات سے ہٹ کر بلاجواز سوالات سے میرے گواہ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، آپ تو چاہتے ہیں کہ ہم اٹھ کر چلے جائیں، چند روز پہلے بھی ایسا ہی کیا گیا،، یہ جواب رہا نیب پراسیکیوٹر عمران شفیق کا…
3 گھنٹے جاری رہنے والے کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی،،
دوران سماعت نیب کے گواہ طارق جاوید نے نیب کی جانب سے بھیجی جانے والی والی ریکارڈ طلبی کی تین صفحات پر مشتمل الیکٹرانک میل پیش کردی،،
16 اگست 2017 کو کی جانے والی ای میل اور اسی دن نیب کی جانب سے کی جانے والی فیکس کے متنازع وقت نے وکیل خواجہ حارث اور نیب پراسیکیوٹر کو الجھا دیا…
ڈائس پر کھڑے دونوں فریقین کی پراسیکیوشن کی جانب تلخ جملوں کا تبادلہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ہوتا ہے رہا..
خواجہ حارث نے گواہ سے کمپنی کے نام، اسکو چلانے والے کا پوچھا تو طارق جاوید نے صاف کہہ دیا، نہیں جانتا کہ کمپنی کون اور کیسے چلاتا ہے
نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ پیش کردہ دستاویزات گواہ نے تیار نہیں کی، صرف مہیا کی ہیں،، کمپنی کس کی ہے، کون چلاتا ہے،، یہ سوال ایس ای سی پی والوں سے پوچھیں،،، میری گواہ ایس ای سی پی کے قوانین کا ماہر نہیں،،گواہ کا تعلق اکاؤنٹ کی حد تک ہے
خواجہ حارث بولے کہ گواہ ہاں یا نا میں جواب دے، یہ سارا وقت کا ضیاع ہے،، کمپنی کے فیکس کے وقت سے پہلے فیکس کا متن ای میل میں کیسے بیان کیا گیا اس پر جواب دیں، ایک جھوٹ کیلئے 100 جھوٹ مت بولیں
عدالت نے گواہ طارق جاوید کا بیان قلمبند کرلیا ،اسحاق ڈار کی حاضری سے استثنی کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی،، آیندہ سماعت پر عبدالرحمن گوندل کو ریکارڈ پیشی کیلئے طلب کرتے ہوئے سماعت 18 اکتوبر ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی گئی



