پولیس اور ہسپتال انتظامیہ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے لگے وزیراعلیٰ کا نوٹس ،انکوائری کمیٹی بن گئی

ملتان : نشتر ہسپتال ملتان کی چھت پر لاوارث لاشوں کا معمہ تاحال حل نہ ہوسکا ہے ،ہسپتال انتظامیہ اور پولیس ایک دوسرے پر واقعہ کی ذمہ داری ڈال رہے ہیں۔ پنجاب حکومت اور ہسپتال انتظامیہ نے معاملے پر انکوائری کمیٹی بنا دیں،کمیٹی تین روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ واقعہ پر وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی نے نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم د یتے ہوئے ذمہ دارعملے کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
لاشیں ملنے پر انتظامیہ کا موقف آگیا ہسپتال کے میڈیا کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر سجاد نے بتایا کہ سوشل میدیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دکھائی گئی لاوارث لاشیں بعض دفعہ ہمیں پولیس کی طرف سے بھیجی جاتی ہیں اور جو ہمارے پاس ہوتی ہیں ان کا بھی باضابطہ ریکارڈ رکھا جاتا ہے، لاوارث لاشوں کو ورثا کے انتظار میں 2 ماہ تک محفوظ کیا جاتا ہے لیکن جن کا لمبے عرصہ تک کوئی نہیں آتا تو ہم ان کے بارے میں دوبارہ کوئی فیصلہ کرتے ہیں کیوں کہ زیادہ عرصہ کے بعد لاش خراب ہونا شروع ہوجاتی ہے، اس لیے ایسی لاشوں کو میڈیکل مقاصد کے لیے استعمال کرلیا جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ میڈیکل کی تعلیم کے لیے انسانی ہڈیوں کے ڈھانچے کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے لیے ہم لاشوں کو قدرتی طور پر خشک کرنے کے لیے رکھتے ہیں، اس مقصد کے لیے ہمارے پاس ایک جنگلے والا کمرہ ہے تاکہ پرندوں وغیرہ کی وجہ سے لاش کی بے حرمتی نہ ہو تاہم جب یہ معاملہ سامنے آیا کہ جس میں چند لاشیں کمرے سے باہر پڑی ہونے کا انکشاف ہوا تو اس کے لیے فوری طور پر ایک انکوائری کمیٹی بنائی گئی ہے۔
نشترہسپتال کے میڈیا کوآرڈی نیٹر نے کہا کہ ہڈیوں کا ڈھانچہ حاصل کرنے کے بعد لاش کی دیگر باقیات کو باقاعدہ دفنایا جاتا ہے، ہڈیوں کو میڈیکل کے طالبعلوں کو فروخت کرنے میں کوئی حقیقیت نہیں ہے، طالبعلوں کو پڑھائی کے مقصد کے لیے ان کے کارڈز پر طالبعلوں کے گروپس کو انسانی ہڈیاں جاری کی جاتی ہیں۔
ہسپتال کی چھت پر واقع کمرے اور صحن سے لاشیں ملنے کے بعد پولیس اور ہسپتال انتظامیہ ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے لگے،پولیس نے ہسپتال انتظامیہ پر ذمہ داری ڈال دی۔ سٹی پولیس آفیسر ملتان خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ لاوارث لاشوں کی تدفین نشترہسپتال انتظامیہ کا کام ہے۔دفعہ 174 کی کارروائی کے بعد لاوارث لاش نشتر ہسپتال کے سردخانے میں رکھی جاتی ہے۔پولیس کا سردخانے میں لاش رکھوانے کے بعد کوئی عمل دخل باقی نہیں رہتا،قانون کے مطابق لاوارث لاشیں ہسپتال میں رکھوانے کی پولیس پابند ہے۔ سی پی او کے مطابق لاشوں کو کتنا عرصہ رکھنا اوران کا کیا کرنا ہے؟ یہ ہسپتال انتظامیہ کا کام ہے،اگر وارث آجائے تو قانونی کارروائی بعد ہسپتال انتظامیہ لاش حوالے کردیتی ہے۔
قبل ازیں ملتان میں نشتر ہسپتال کے سرد خانے کی چھت پر مزید لاشیں پڑی ہونے کا انکشاف ہوا ۔میڈیا رپورٹس میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ بتایا گیا کہ سرد خانے کے اوپر 2 کمرے لاشوں سے بھرے ہوئے ہیں،ایک کمرے میں متعدد لاشیں پڑی ہیں جبکہ نشتر ہسپتال کے سرد خانے کے فریزر کئی سال سے بند ہیں،نشتر ہسپتال کے سرد خانے میں 40 میتیں رکھنے کی گنجائش ہے،ایک فریزر میں صرف 7 سے 8 لاشیں رکھی جا سکتی ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ پنجاب حکومت اور ہسپتال انتظامیہ نے معاملے پر انکوائری کمیٹیاں بنا دیں،کمیٹی تین روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی جبکہ مونس الہی نے نشتر ہسپتال شعبہ اناٹومی کی سربراہ کا بیان شیئر کیا۔
شعبہ اناٹومی کی سربراہ پروفیسر مریم کے مطابق لاشیں نا معلوم افراد کی تھیں جو پولیس نے نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے سپرد کیں،لاشیں پوسٹمارٹم کیلئے ہسپتال کو دی گئیں۔ پولیس کی طرف سے میڈیکل کے طلبہ کیلئے استعمال کرنے کی بھی اجازت دی تھی۔نشترہسپتال کی چھت سے لاشیں ملنے کے واقعہ پر وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی نے نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا۔وزیراعلی پنجاب نے افسوسناک واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ دارعملے کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔



