اسلام آباد: کامسٹیک سیکرٹریٹ میں قازقستان ایلومنائی فورم کا چوتھا اجلاس منعقد ہوا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری، کوآرڈینیٹر جنرل کامسٹیک نے کہا کہ پاکستان میں قازقستان کے سفیر جناب یرزہان کستافن اپنے شعبے کے بہترین افراد میں سے ایک ہیں اور قازقستان ایلمنائی فورم کی تشکیل انہی کی کاوش کا نتیجہ ہے۔پروفیسر چودھری نے کہا کہ قازقستان کی قیادت عالمی معاملات میں بہت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کامسٹیک کے لیے قازقستان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ قازقستان میں اعلی درجہ کے عالمی معیار کے تعلیمی ادارے ہیں۔
پروفیسر چودھری نے کہا کہ ہم سب جو قازقستان میں پڑھ کر آئے ہیں ہر ایک کے پاس قازقستان کے ساتھ محبت اور پیار کی کہانی ہے۔ پروفیسر چودھری نے قازقستان کے صدر کے بائیو سیکیوریٹی اور بائیو سیفٹی آئیڈیا کو سراہا۔
دوران میٹنگ بہت سے شرکا نے اپنے خیالات اور تجاویز کا اظہار کیا۔ انہوں نے طلبا کو قازق اور روسی زبانیں سکھانے کے لیے پاکستان میں زبان کا ایک اچھا ادارہ قائم کرنے کی تجویز دی۔ انہوں نے یہ بھی تجویز کیا کہ قازق طلبا کو بھی پاکستان آنا چاہیے اور اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے 6 سے 12 ماہ پاکستان میں گزارنا چاہیے۔ انہوں نے پاکستانی طلبا کو قازقستان کی جانب سے پیش کیے جانے والے تعلیمی مواقع، پاکستانی اور قازقستان کے متعلقہ ریگولیٹری اور تعلیمی اداروں کے درمیان رابطے، آن لائن داخلہ اور دونوں ممالک کے درمیان ہائی ٹیک وفود کے تبادلے کی تجاویز بھی دیں اور قازقستان کے بہترین تعلیمی نظام کو سراہا۔
قازقستان کے سفیر یرزہان کستافن نے کامسٹیک میں چوتھی میٹنگ کے انعقاد پر پروفیسر چوہدری کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے لاہور میں قازق ہاوس کے قیام، لاہور سے قازقستان کے لیے براہ راست پروازوں کے آغاز اور پاکستان اور قازقستان کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے حال ہی میں منعقد کی جانے والی تقریبات جیسے اہم حالیہ اقدامات کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی تعلیمی اداروں اور قازق اداروں کے درمیان براہ راست رابطہ ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے سابق طلبا کے تبصروں اور تجاویز کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے سابق طلبا کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے تجربے کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں جو قازقستان میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں۔
اجلاس کے دوران پروفیسر ڈاکٹر شعیب احمد خان اور پروفیسر ڈاکٹر عطیہ الوہاب نے بالترتیب صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کا اطلاق اور چھاتی کے کینسر کے علاج کے لیے تحقیق پر پریزنٹیشنز دیں۔ دونوں پریزنٹیشنز کو شرکا نے خوب سراہا۔قازقستان کے چالیس سابق طلبا میٹنگ میں شامل ہونے کے لیے رجسٹر ہوئے۔


