بورے والا روڈ بائی پاس روڈ پر حادثات روز کا معمول، انتظامیہ خاموش تماشائی

چیچہ وطنی…رضوان احمد

بائی پاس بورے والا روڈ پہ آئے دن حادثات ایک معمول بن چکے ہیں،اور اسمیں سینکڑوں لوگ اپنی زندگی کی بازی ہارچکے ہیں جبکہ ایک بہت بڑی تعداد زخمی ہوکر اپاہج بن چکی ہے، انسانی خون اسقدر ارزاں ہوچکا ہے کہ حکام بالا کے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگ رہی، اور انڈر پاس یا اوور ہیڈ برج بنانے کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی، درجنوں بار فزیبلٹی رپورٹ بننے کے باوجود نادیدہ قوتوں نے سرمایے کےزور پہ اس دیرینہ عوامی مطالبے کو نہ صرف یہ کہ سبوتاژ کیا، بلکہ اپنے مفاد کیلئے اس کی راہ میں روڑے بھی اٹکائے، یہی وجہ ہے کہ آج تک یہ منصوبہ صرف کاغذی کاروائی تک ہی محدود رہا اور اس کو قابل عمل بنانے کیلئے کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوسکی، پچھلے دنوں کچھ حلقوں کی طرف سے اس حوالے سے صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے بائی پاس بورے والا روڈ پہ انڈرپاس یا اوور ہیڈ برج نہ بننے کی وجہ سے ہونے والے حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کے کوائف اور موبائل نمبرز بھی مانگے گئے، مگر پھر نجانے ان نام نہاد عوامی حلقوں کو کیا ہوا کہ وہ ایکدم سے خاموش ہو کر بیٹھ گئے، اب یہ خدا ہی جانتا ہے کہ وہ دولت کی چمک کا شکار ہوکر سرمایے کے ہاتھوں اپنے ضمیر کا سودا کر بیٹھے ، یا پھر ان کو کوئی اور سماجی یا سیاسی مجبوری آن پڑی ، اب عوامی حلقوں میں یہ سوچ بھی تقویت پکڑتی جارہی ہے کہ اس معاشرے سے شاید انسانیت رخصت ہو چکی ہے کہ چند بااثر افراد کے مفاد کیلئے ہزاروں افراد کی زندگی کو داو پہ لگایا جا رہا ہے، اگر حکام نے اس عوامی مطالبے کو رد کرتے ہوئے اوورہیڈ برج یا انڈرپاس بنانے کا فیصلہ نہ کیا تو عوام کا احتجاج قابو سے باہر ہو جائے گا، اسلئے میں مقامی ایم این اے چوہدری طفیل جٹ سے اپیل اور مطالبہ کرتا ہوں کہ جلد از جلد اس منصوبے کی فزیبلٹی رپورٹ مکمل کر کے اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے