
لاھور …. شہدائے ختم نبوت فیض آباد نے اپنی جانیں دے کر ختم نبوت پر پہرہ دیا ہے ختم نبوت کے تحفظ کی خاطر کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
ان خیالات کا اظہار تاجدار ختم نبوت ریلی جو درگاہ و جامع مسجد قطب شاہ ولی رحمان پورہ اچھرہ لاھور سے دربار حضرت غازی علم الدین شہید رحمتہ اللہ علیہ میانی صاحب قبرستان مزنگ لاھور تک نکالی گئی میں تحریک لبیک یارسول اللہ کے قائدین نے کیا۔جسکی سرپرستی علامہ خادم حسین رضوی سربراہ تحریک لبیک یارسول اللہ نے فرمائی۔
ریلی سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوے بانی وسرپرست اعلی پیر محمد افضل نےکہا کہ 4جنوری کوکل پاکستان ختم نبوت کانفرنس بسلسلہ چہلم شہدائے ختم نبوت لیاقت باغ راولپمڈی میں منعقد ہو گی جسمیں ملک بھر سے قافلے شریک ہونگے اور اس موقع پر اہم ترین لائحہ عمل بھی دیا جائے گا-
ریلی کی قیادت کرتے ہوے تحریک لبیک یارسول اللہ مرکزی ناظم نشرواشاعت *صاحبزادہ پیر محمد اعجازاشرفی نے کہا ہم آخری سانس تک ختم نبوت کے تحفظ کے لئیے پہرہ دیں گے انہوں نے راجہ ظفر الحق کمیٹی رپورٹ نہ شائع کرنا بدنیتی پر مبنی قرار دیا ۔ جبکہ ایک مہینہ کا وعدہ مکمل ہو چکا ہے ریلی کے شرکاء سے غازی علم الدین شہید کے مزار پر خطاب کرتے ہوے انکامزید کہنا تھا کہ ہمارے قائیدین تحریک لبیک یارسول اللہ علامہ خادم حسین رضوی اور پیرمحمد افضل قادری کی آواز پر پورے ملک کے عاشقان رسول سڑکوں پرنکلنے کے لیے تیار ہیں۔ اس لئیے حکومت کو حوش کے ناخن لے کر حساس ترین مسئلہ ختم نبوت کو فی الفور ختم نبوت دھرنا فیض آباد کے معاہدہ پر عملدرامد کرنا چاہیئے ۔
بصورت دیگر قائیدین تحریک لبیک یارسول الله کی ہنگامی کال کا عاشقان رسول بڑی بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں-
ریلی میں علماء مشائخ وکارکنان کے علاوہ مولانا پیر زبیر احمد قصوری، مولانا نصراللہ چشتی، مولانا ظفر علی رضوی، مولانا مشتاق احمد، مولانا فاروق قادری، مولانااحسان اللہ، پروفیسر بابر علی ،سیدصفدر علی کرمانی،پروفیسر شفقت رسول، شیراز احمد چشتی ویگر نے بھرپور شرکت و خطابات کئیے
ریلی کے شرکاءلبیک یارسول اللہ کے نعروں سے سرشار تھے اور اچھرہ بازار جب ریلی گزری تو منظر اور دیدنی ہو گیا جب مرد وخواتین اور بچے بوڑھے چھتوں پر اور دکانوں کے باہر ہاتھوں کو اٹھا اٹھاکر نعرہ مستانہ لبیک یارسول اللہ لگانےلگے جس سےعلاقہ اچھرہ لبیک یارسول اللہ کےنعروں سے گونج اٹھا۔



