جسٹس فائز کیخلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کرنے والا فل کورٹ بینچ دوسری بار تحلیل،لاہور ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس امین الدین خان نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا

Image result for qazi faez isa
اسلام آباد : سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس پر آئینی درخواستوں کی سماعت کرنے والا فل کورٹ بینچ دوسری بار ٹوٹ گیا۔جسٹس فائز عیسی کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کی سماعت کے لیے 20 ستمبر کو سپریم کورٹ کا فل بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل منیر اے ملک کی جانب سے لارجر بینچ پر اعتراض کے بعد 7 رکنی بینچ تحلیل کردیا گیا تھا اور بینچ کی ازسرنو تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوایا گیا تھا۔سپریم کورٹ کی جانب سے صدارتی ریفرنس کی سماعت کے لیے جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں ایک دوسرا بینچ تشکیل دیا گیا تھا تاہم اب یہ بینچ بھی تحلیل ہو گیا ہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جسٹس مظہر عالم میاں خیل کی عدم دستیابی پر بینچ تحلیل کر رہے ہیں اور نئے بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا رہے ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل نے کہا کہ مقدمے کے سماعت کے لیے فل کورٹ تشکیل دیا جائے، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بینچ کی تشکیل چیف جسٹس کی صوابدید ہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا امید ہے اسی ہفتے ہی دوبارہ درخواستوں پر سماعت کریں گے۔
دریں اثناء لاہور ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس امین الدین خان نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔حلف بردرای کی تقریب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہوئی، جہاں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جسٹس امین الدین سے حلف لیا۔اس موقع پر تقریب میں سپریم کورٹ کے ججز اور سینئر وکلا بھی موجود تھے۔واضح رہے کہ جسٹس امین الدین خان کے تقرر کا نوٹیفکیشن گزشتہ ہفتے وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری کیا گیا تھا اور وہ لاہور ہائی کورٹ کے 5ویں سینئر ترین جج تھے۔اگر ان کے عدالتی سفر پر نظر ڈالیں تو جسٹس امین الدین خان نے 1985 میں ماتحت عدالتوں میں پریٹکس شروع کی، جس کے بعد 1987 میں وہ لاہور ہائی کورٹ کے اور پھر 2001 میں سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ مقرر ہوئے۔انہوں نے 2001 میں ملتان میں ظفر لا چیمبر میں شمولیت اختیار کی اور جج کے عہدے پر پہنچنے سے قبل تک وہ اسی قانونی فرم کے ساتھ کام کرتے رہے، بعد ازاں 2011 میں ان کا بینچ کے لیے تقرر ہوگیا۔اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے میاں نثار احمد اور عمر عطا بندیال جیسے معروف وکلا کے ساتھ کام کیا۔واضح رہے کہ جسٹس عمر عطا بندیال 2022 میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بنیں گے۔جسٹس امین الدین نے شہری معاملے کے ہزاروں کیسز کا فیصلہ کیا ہے اور ان کے بہت سے فیصلوں کو سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ہے۔